Wednesday, November 2, 2011

غیرت و حمیت

تاریخ کے اوراق پلٹیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسپین کی صدیوں پر محیط اسلامی ریاست کے خاتمے کی آخری گھڑی کے موقع پر، آخری بادشاہ اپنے محل سے باھر نکالا جا رھا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ میں اس کی ماں ملکہ معظمہ ۔۔۔ اور پھر بادشاہ پلٹ کر اپنے محل کو دیکھتا ھے۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ھو جاتے ھیں۔۔ اور درد اور الم کے ان کربناک لمحوں میں ملکہ کی زبان سے یہ تاریخ ساز الفاظ ادا ھوتے ھیں کہ۔۔

" جس سلطنت کی حفاظت مردوں کی طرح نہ کر سکے اس کے چھننے پر عورتوں کی طرح آنسو بھی نہ بہاؤ"۔۔۔۔۔۔۔۔

عزت، غیرت ، حمیت اور خود داری وہ جنس نایاب ھیں کہ جن کی آبیاری اپنے خون سے کرنی پڑتی ھے۔۔۔۔۔ نہ تو یہ بھیک میں ملتی ھے اور نہ ھی آسمانوں سے نازل ھوتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کی تاریخ گواہ ھے کہ جب بھی کسی قوم کا زوال ھوا۔۔۔ اس کی ابتداء میں یہ گوھر نایاب اس قوم سے روٹھ گیے۔۔۔ اور پھر رفتہ رفتہ وہ قوم ایک قصہ بن کے رہ جاتی ھے۔۔۔


وقت کرتا ھے پرورش برسوں
حادثے نا گہاں نہیں ھوتے۔۔۔

وطن عزیز کی ناموس جس طرح آج ساری دنیا کے سامنے ایک تماشا بنی ھوئی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ھمارا مقدر ھے۔۔۔ کہ جس پر صبر اور شکر ادا کر کے اور آنسو بہا کے بیٹھ جائیں۔۔۔۔۔۔۔ کیا دنیا کی یہ عظیم قوم کہ جس میں وہ صلاحیتیں موجود ھیں کہ وہ ساری دنیا کی راہنمائی کر سکتی ھے۔۔۔ چند بے غیرت، ضمیر فروش، بے شرم اور دولت کے پجاریوں کے ھاتھوں یرغمال بنی رھے گی۔۔۔ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ھم رُک کر ان اسباب کا جائزہ لیں۔۔۔ کہ جس نے ھماری عزت اور غیرت کو دوسروں کے ھاتھوں چند سکوں کے عوض گروی رکھ دیا ھے۔۔۔ کیا ھمیں اپنا احتساب نہیں کرنا چاھیے۔۔۔۔۔ آئیے اللہ کی کتاب سے یہ سوال کریں کہ آخر یہ قوم کہ جس نے ایک خطہ زمین اللہ کے نام پر حاصل کیا تھا۔۔۔ کہ جس ملک کو اس کریم اور رحیم نے دنیا کی ھر نعمت اور دولت سے مالا مال کیا ھوا ھے۔۔ کیوں اس طرح بے توقیری کا شکار ھے؟؟؟؟

قرآن کریم نے قوموں کے عروج و زوال کی کئی داستانیں بیان کی ھیں ۔۔۔ جو ھمارے لیے عبرت کا سامان مہیا کرتی ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرمایا۔۔۔۔۔ 


وَكُلَّ إِنسَـٰنٍ أَلۡزَمۡنَـٰهُ طَـٰٓٮِٕرَهُ ۥ فِى عُنُقِهِۦ‌ۖ وَنُخۡرِجُ لَهُ ۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَـٰمَةِ ڪِتَـٰبً۬ا يَلۡقَٮٰهُ مَنشُورًا ( ١٣ ) ٱقۡرَأۡ كِتَـٰبَكَ كَفَىٰ بِنَفۡسِكَ ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيبً۬ا ( ١٤ ) مَّنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَہۡتَدِى لِنَفۡسِهِۦ‌ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡہَا‌ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ۬ وِزۡرَ أُخۡرَىٰ‌ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبۡعَثَ رَسُولاً۬ ( ١٥ ) ۔۔۔17/15 

اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کا نوشتہ اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے، اور ہم اس کے لئے قیامت کے دن (یہ) نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ (اپنے سامنے) کھلا ہوا پائے گا، (١٣) (اس سے کہا جائے گا:) اپنی کتابِ (اَعمال) پڑھ لے، آج تو اپنا حساب جانچنے کے لئے خود ہی کافی ہے، (١٤)جو کوئی راہِ ہدایت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے فائدہ کے لئے ہدایت پر چلتا ہے اور جو شخص گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبال (بھی) اسی پر ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہوں) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور ہم ہرگز عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم (اس قوم میں) کسی رسول کو بھیج لیں،


آیت مذکورہ سے واضح ھوتا ھے کہ یہ اللہ کریم کی سنت ھے کہ جب تک کسی قوم میں کوئی آگاہ کرنے والا نہ بھیج دیا جائے۔۔ اور اس قوم کی صحیح اور غلط راھوں کی راہنمائی نہ کر دی جائے۔۔ اس قوم پر عذاب نازل نہیں کیا جاتا۔۔۔۔ مزید ، یہ بھی اللہ کا قانون ھے کہ ھدایت اور گمراھی انسان کے اپنے اختیار اور ارادے کی بات ھے۔۔۔ نہ خدا کسی کو گمراہ کرتا ھے اور نہ ھی زبردستی ھدایت دیتا ھے۔۔۔چنانچہ جو ھدایت حاصل کرنا چاھتا ھے تو اسے ھدایت مل جاتی ھے۔۔ اور جو گمراھی کا راستہ اختیار کرتا ھے تو اس کا نقصان اس کی اپنی ذات کو پہنچتا ھے۔۔۔ اور یہ بھی اللہ کا اٹل قانون ھے کہ کہ کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔۔ خدا کا یہ قانون کتنا محکم ھے کہ کوی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔۔ اس کا اندازہ اس اگلی آیت مبارکہ سے ھوتا ھے ۔۔ فرمایا۔۔۔

وَإِذَآ أَرَدۡنَآ أَن نُّہۡلِكَ قَرۡيَةً أَمَرۡنَا مُتۡرَفِيہَا فَفَسَقُواْ فِيہَا فَحَقَّ عَلَيۡہَا ٱلۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنَـٰهَا تَدۡمِيرً۬ا۔۔۔17/16

قوموں کی تباھی کے لیے خدا کا قانون یہ ھے۔۔کہ جب وہ آرام پسند، محنت کئے بغیر زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل کرنے کی خواھش مند، عیش پرست اور سرمایہ دارانہ ذھنیت کی حامل ھو جاتی ھے، اور اس طرح اُس صحیح راستے کو چھوڑ کر، جو ان کے سامنے واضح طور پر آ چکا ھوتا ھے، غلط راستوں کو اختیار کر لیتی ھے، تو وہ تباھی کی مستوجب ھو جاتی ھے، اور پھر اس طرح ھلاک کر دی جاتی ھے کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہیں رھتا۔۔ [مفہوم

اب ھوتا کیا ھے۔۔۔ کہ اس قوم میں ایسے لوگ جنھیں قرآن اپنی مخصوص اصطلاح میں " مترفین " کہتا ھے۔۔ بڑی تعداد میں جمع ھو جاتے ھیں۔۔۔ یہ ایسے لوگوں کا گروہ ھوتا ھے کہ جو خود کچھ بھی نہیں کرتے مگر دوسروں کی محنت کی کمائی پر عیش کرتے ھیں۔۔ اور اس کے نتیجے میں اللہ کا وہ مستقل قانون ، "کہ کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا" ۔۔ کی خلاف ورزی شروع ھو جاتی ھے۔۔۔ جس کا نتیجہ اس قوم کی بربادی اور تباھی ھے۔۔۔ اس ھی بات کو دوسرے مقام پر اس طرح سے بیان کیا گیا ھے۔۔۔
فرمایا۔۔۔


ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلاً۬ قَرۡيَةً۬ ڪَانَتۡ ءَامِنَةً۬ مُّطۡمَٮِٕنَّةً۬ يَأۡتِيهَا رِزۡقُهَا رَغَدً۬ا مِّن كُلِّ مَكَانٍ۬ فَڪَفَرَتۡ بِأَنۡعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٲقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلۡجُوعِ وَٱلۡخَوۡفِ بِمَا ڪَانُواْ يَصۡنَعُونَ ۔۔16/112

اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں۔۔

دوستو۔۔۔۔ بہت توجہ اور ایمانداری کے ساتھ اس بات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ھے کہ کیا آج یہ ساری قوم، ان دونوں جرائم ، کہ مترفین کو پالنا اور اللہ کی نعمت کا کفران کرنا۔۔۔ کی مرتکب نہیں؟؟


کیا آج ھم نے بھی ان ھزاروں کی تعداد میں حکمرانوں کی فوج ، بیوروکریسی ، ممبران اسمبلی، سینٹ ، اور جرنیل ، اور مذھبی پیشواؤں ۔۔۔۔ کا بوجھ اپنے کاندھوں پر نہیں اُٹھا رکھا ؟؟؟


کیا ھم نے اپنے رب کی عطا کی ھوئی اس نعمت عظیم یعنی مملکت پاکستان کے حصول پر شکر گزاری کی ؟؟؟ یا حسب توفیق اس کے جسم کا ریشہ ریشہ کر کے اپنا جہنم تیار کرتے رھے؟؟؟


دوستو۔۔۔۔ یہ وقت جاگنے کا ھے۔۔۔ ھم میں ھر کوئی اپنے اپنے دائرے میں ، دوسرے احباب کو حالات کی نزاکت کا احساس دلائے۔۔۔ اور انھیں یہ باور کروائے کہ اپنے معاملات و مسائل کا حل ھمیں خود ھی ڈھونڈنا ھوگا۔۔ کوئی اور
ھماری مدد کے لیے نہیں آئے گا۔۔



شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر ھے
اپنے حصے کی کوئی شمع جلائے رکھنا 

روزے کی اہمیت اور ضرورت قرآن کی روشنی میں


روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں.  یہ صرف ایک روایت یا رسم بھی نہیں. الله سب لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہے، اور اسکی وجہ بھی بتاتا ہے کے ہم متقی بن جایئں، اب اگر رمضان کے آخر میں ہمیں اپنے آپ میں کوئی تبدیلی نظر نہ آے تو یہ ایک بہت غور طلب بات ہے کیوں کے روزے کا اصل مقصد اپنے آپ پر نظرے سانی کرنا ہے.

٢:١٨٣ مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو


2:185
رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ اللہ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ اللہ نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو.

پرہیزگاری کا مطلب یہ ہے کے ہم الله کے بتاۓ ہوے راستے پر چلیں جو قرآن کریم میں بتایا گیا ہے. ہر سال رمضان کا مہینہ ہمیں یاد کرواتا ہے کے ہم  واقعی ہم اس راستے پر چل بھی رہے ہیں یا نہیں؟

اگر آپ غور کریں تو روزوں کے شروع میں بھوک بہت زیادہ لگتی ہے لیکن آہستہ آہستہ عادت ہو جاتی ہے اور روزہ اتنا مشکل نہیں لگتا. ایسے ہی آپ جب پہلی بار کوئی برا کام کرتے ہیں تو عجیب لگتا ہے مگر آہستہ آہستہ اسکی عادت ہو جاتی ہے اور وہ عادت آپکی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے اور آپکو محسوس تک نہیں ہوتا کے آپ کچھ برا کر رہے ہیں. اسکا الٹ لے لیں، اگر آپ اپنے آپ پر غور کریں اور ایک بری عادت کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو آہستہ آہستہ وہ آپکی شخصیت کا حصہ بن جائے گی. پھر آپکو محسوس ہی نہیں ہوگا کے آپ کوئی اچھا کام کر رہے ہیں. یہاں تک کے کوئی آپکی تعریف کرے گا تو آپکو عجیب لگے گا کے میں نے ایسا کیا کر دیا. 

تو دوستو، سب مل کر رمضان کے مہینے میں اپنی بری عادات اور سوچ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں. کون جانے رمضان کے مہینے کے اختتام تک ہم لوگ اس عادت کو مکمل اپنا چکے ہوں جو ساری زندگی ہمارے کام آے. 

فتوی فروش اور فرقہ باز ملا علمائے حقہ کو بھی بدنام کرتے ہیں


فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے مین پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔ اللہ تبارک و تعلی نے فرقہ بندی کو انتہائی حد تک ناپسندیدہ قرار دیا ہے بلکہ اسے شرک تک قرار دے دیا ہے۔ اگر آپ غور فرمائیں گے تو اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ مفاد پرست اور سرمایہ داروں کے ایجنٹ فتوی فروش ملائوں نے اپنے تھوڑے سے حلوے کی خاطر مسلمانوں کو فرقہ بندی کی لعنت میں گرفتار کر رکھا ہے اور جب بھی کوئی اسلام کے اصل نظام کی بات کرتا ہے تو سرمایہ داری، جاگیر داری اور بغیر محنت کے روٹیاں توڑنے والے، حلوے مانڈے اڑانے والے فرقہ بازوں کے ایوانوں مین زلزلہ پرپا ہو جاتا ہے اور یہ سارے فرقہ باز متحد ہو کر اسلام کے خلاف اسلام ہی کا نام کے کر صف آرا ہو جاتے ہین اور پوری قوت سے چلانے لگتے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے حالانکہ سارا خطرہ فرعونی نظام کو ہوتا ہے۔ اس فرعونی نظام کے تیسرے ایجنٹ ہونے کی حیثیت میں یہ لوگ ایسی آوازوں کو دبانے کے لئے کفر کے فتوے تک داغ دیتے ہیں مثال کے طور پر سرسید احمد خان، علامہ عنایت اللہ خان مشرقی،مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی، علامہ اقبال، قائد اعظم، مولانا سید ابوالاعلی مودودی، علامہ پرویز، جناب ملک معراج خالد، جناب علامہ طاہر القادری، علامہ جاوید احمد غامدی اور علامہ مفتی محمود اور تمام نامور علمائے امت پر کفر کے فتوے موجود ہین اور انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں اور تو اور یہ فرقہ باز مولوی ہر نئی آواز جو کہ منفرد ہو اور سوچنے سمجھنے پر مائل کرتی ہو یہ لوگ فوری طور پر اسے علامہ مودودی سے منسلک کر دیتے ہیں اور زیادہ خوف زدہ ہوں تو پرویز کے کھاتے ہیں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کے یہ ایجنٹ نئی نسل کو ان مفکریں سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ کوشش میں ہیں کہ نئی نسل ان کو بغیر پڑھے محض ان کے کہنے پر انکو مسترد کر دے لیکن آج کا باشعور فرد ان کی ڈھکوسلے بازی میں آنے والا نہیں اسی سبب سے یہ تمام فرقہ باز سخت مشتعل ہیں۔ میری تمام انسانوں سے درخواست ہے کہ کسی فتوی فروش کے کہنے میں آکر کسی کے حق میں یا خلاف نہ ہو جائیں بلکہ عقل و سمجھ سے کام لیں اور ان فرقہ بازوں کے چنگل سے اسلام اور مسلمانوں کو رہائی دلوائیں کیونکہ یہ خود اسلام کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور لوگوں کا مال باطل فریقوں سے ہتھیاتے ہیں۔

ادران اسلام بلکہ اے تمام نوع انسان تمہیں خبر ہو کہ ہر ظلم و ستم پر مبنی معاشرے کے تیں ستون ہوتے ہیں جو کہ متحد ہو کر کمزوروں پر مشق ستم توڑتے رہتے ہیں۔ اس میں پہلے نمبر پر فرعون ہوتا ہے یعنی ڈکٹیٹر دوسرے نمبر پر سرمایہ دار و جاگیر دار ہوتے ہیں اور تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ طاقتور مذہبی پیشوا یعنی ملا، پادری اور پروہت وغیرہ ہوتے ہیں جو عوام کو صبر کی تعلیم دیتے ہیں اور اس سارے ظلم و ستم کو اللہ کی مرضی قرار دیتے ہیں اور لوگو سے یہ کہتے بھرتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو امیر بنا ہے اور کسی کو غریب اور یہ ظلم کے نطام کے سب سے بڑے محافظ اور حصہ دار ہوتے ہیں۔

اندھی تقلید


مذھبی اجتماعات بھی ہو رہے ہیں ..رائے ونڈ میں 20 لاکھ لوگ جمع ہو کر 40 لاکھ ہاتھ اٹھا کر دعائیں بھی کرتے ہیں مگر نہ ہی کشمیر آزاد ہوتا ہے نہ فلسطین آزاد ہوا نہ عراق و افغانستان کے حالات بدلے .. کشمیر تو پاکستان کو کیا ملتا الٹا آدھا پاکستان گنوا دیا ہم نے ..کیا وجہ ہے اس سب کی .. کہاں کمی ہے .. کیوں 63 سالوں سے ہمارا ہر قدم الٹا پڑ رہا ہے .. 
ہم سفر کی دعا پڑھ کر سواری پر سوار ہوتے ہیں .. پھر بھی ہماری ہی ٹرینیں

آٹھ آٹھ گھنٹے لیٹ ہو جاتی ہیں .. انہیں ہی زیادہ حادثے ہوتے ہیں .. جبکہ

کافروں کے پاس تو سفر کی دعا بھی نہیں پھر بھی ان کی ٹرینیں تو آٹھ منٹ بھی

لیٹ نہیں ہوتیں .. شاذ و نادر ہی کوئی حادثہ ہوتا ہے .. ایسا کیوں ہے آخر ..

صحیح بات تو یہ ہے کہ ہم عبادات تو کرتے ہیں دعائیں بھی کرتے ہیں لیکن

اسلام کے اصولوں پر نہیں چلتے ..ہم اسلام کی روح کو اس مغزکو نہیں سمجھتے

.. بس اندھی تقلید کرتے ہیں .. نماز کا ہر رکن انسان کی تربیت کے لئے ہے ..

صف بندی اس لئے ہے کہ ٹریفک سگنل پر بھی صف بندی کی جائے ..بس اسٹاپ ..

راشن شاپ پر بھی صف بندی کی جائے ..

سجدہ بتاتا ہے کہ جو سر اللہ کے آگے جھکتا ہے وہ کسی اور کے آگے نہیں جھک

سکتا .. مگر آج ہمارا سر ہر جگہ جھکا ہوا ہے ..کسی کا آفس میں ترقی کے لئے

.. کسی کا الیکشن میں ٹکٹ کے لئے ..صفائی نصف ایمان ہے .. لیکن ہم مسجدوں

تک کے باتھ رومز صاف نہیں رکھ سکتے ..ریسٹورینٹس کے باورچی خانوں کی صفائی

کا کیا حال ہے کس کو خیال ہے ..

ہم حج پر جاتے ہیں لیکن حج جن پیسوں سے کیا جا رہا ہے وہ حرام ہیں یا حلال

کتنے لوگوں کو اس بات کا خیال ہے اکثر لوگ جو حج پر جانے کے لئے کاغذی

کارروائی ہوتی ہے اس میں دس جگہ رشوت دیتے ہیں …. گوشت ہمیں حلال چاہیئے

پر حلال پیسوں سے خرید رہے ہیں یا نہیں کتنے لوگ سوچتے ہیں ..؟ ایسے بھی

لوگ ہیں جو ہر سال عمرے پر جاتے ہیں لیکن ان کے آس پاس کتنے غریب نادار لوگ

فاقوں میں گزارتے ہیں کتنے لوگ سوچتے ہیں ؟ یہ اسلام کا بتایا ہوا راستہ

ہے جس پر ہم چل رہے ہیں ؟ حدیث ہے کہ ” علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے

جہاں سے ملے لے لو ” لیکن ہم تو اسکولز تباہ کر رہے ہیں ..جب تک ہم اندھی

تقلید کرتے رہیں گے .. خود سے علم ،تحقیق و شعور نہیں لائیں گے اپنے اندر

.. اسلام کی روح کو نہیں سمجھیں گے .. جب تب ہم اپنے اعمال و افعال میں

اخلاص نہیں پیدا کریں گے.. اس وقت تک کوئی دعا قبول نہیں ہوگی نہ کوئی

معجزہ ہوگا

The Interview With God Poem


I dreamed I had an interview with God.

“So you would like to interview me?” God asked.

“If you have the time” I said.

God smiled. “My time is eternity.”
“What questions do you have in mind for me?”

“What surprises you most about humankind?”

God answered...
“That they get bored with childhood,
they rush to grow up, and then
long to be children again.”
انسان اپنے بچپن سے بور ہو کر جلدی جلدی بڑا ہونا چاہتا ہے، اور بڑا ہو کر واپس اپنے بچپن میں لوٹ جانا چاہتا ہے

“That they lose their health to make money...
and then lose their money to restore their health.”
انسان پیسا کمانے کے لئے صحت گنواتا ہے، اور پھر وہی پیسا گنوا کر اپنی صحت واپس کماتا ہے.

“That by thinking anxiously about the future,
they forget the present,
such that they live in neither
the present nor the future.”
انسان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا سوچتا اپنے حال کے بارے میں بھول جاتا ہے، ایسے نہ وہ اپنا حال جیتا ہے نہ مستقبل 

"That they live as if they will never die,
and die as though they had never lived.”
انسان زندہ ایسے رہتا ہے جسے اس کو کبھی موت نہیں آنی اور موت آنے پر مرتا ایسے ہے جسے اس نے کوئی زندگی ہی نہیں گزاری.

God’s hand took mine
and we were silent for a while.

And then I asked...
“As a parent, what are some of life’s lessons
you want your children to learn?”

“To learn they cannot make anyone
love them. All they can do
is let themselves be loved.”


“To learn that it is not good
to compare themselves to others.”

“To learn to forgive
by practicing forgiveness.”

“To learn that it only takes a few seconds
to open profound wounds in those they love,
and it can take many years to heal them.”

“To learn that a rich person
is not one who has the most,
but is one who needs the least.”
امیر وہ نہیں جسکے پاس زیادہ ہے، امیر وہ ہے جسکی ضرورت کم ہے

“To learn that there are people
who love them dearly,
but simply have not yet learned
how to express or show their feelings.”

“To learn that two people can
look at the same thing
and see it differently.”

“To learn that it is not enough that they
forgive one another, but they must also forgive themselves.”

"Thank you for your time," I said humbly.

"Is there anything else
you would like your children to know?"

God smiled and said,
“Just know that I am here... always.”

Superstition - not a part of Deen & Quran


Superstition & Bad Luck has no place in Quran, nor does it suits any Muslim to believe in such thing that anyone else can harm then instead Allah. The common supertisions present in our society are
  1. Black cat crossing the pat
  2. Number 13
  3. If the milk boils 
  4. If the glass breaks
  5. Wearing black color 
  6. Twiching eyes
  7. Iching in the right palm
  8. Shoes position
  9. Considering some numbers better
  10. Considering some names better
  11. Month of Safar
It is commonly believed that bad omens come from external sources which is why man tends to blame either some other person or animal or an object, a day or a month or a number where as Allah Subhana Watala through this Ayah has made it very clear that every man’s omen and bad luck is due to his own misdeeds and wrong doings.
Allah Subhana Watala further says in the Quran,

“What comes to you of good is from Allah , but what comes to you of evil, [O man], is from yourself” (4:79)

Further Reading
http://farhathashmi.wordpress.com/2010/01/20/month-of-safar-bad-omens-and-superstitions/

جب ثقافت دین کی ضد بن جائے


اور بہت سی آیات ہیں، لیکن اس وقت اگر یہی تین آیات ہی غور سے پڑھ او ر سمجھ لی جایں تو بہت ہو گا. تمام وہ چیزیں جو ہم صرف ثقافت کے نام پر کرتے ہیں، انکے کرنے میں کوئی ہرج نہیں  لیکن اگر ثقافت میں کسی سے زیادتی ہو، دین کے خلاف کوئی بات ہو تو اسکو رد کر دینے میں ہی بھلائی ہے. الله ہمیں یہی حکم دیتا ہے. ثقافت کے نام پر ایسا  کرنے میں کوئی بھی دلیل کام نہیں آ سکتی جب آپکے پاس قرآن کی صورت میں واضح دلیل ہے. اسکی ایک بہت سادہ سی مثال جہیز ہے، اور دوسری ایک مثال یہ سمجھنا ہے کے شادی کے بعد عورت کے والدین اسکے لئے مر گئے جبکے والدین کے حقوق میں عورت اور مرد کی کوئی تفریق الله پاک کی طرف سے نہیں رکھی گیی. بہت سی چیزیں بہتر ہو چکی ہیں جن میں عورت کا کسی غیر مرد سے بات کرنے کو  برا جاننا، بیٹی پیدا ہونے پر اداس ہونا، عورت کے تعلیم حاصل کرنے کو برا جاننا جیسی باتیں شامل ہیں.... باقی آپ سب خود غور اور فکرکریں. اندھا دھند کسی بات پر یقین نہ کریں, غور و فکر نہ کرنے والے کو الله جانور سے بھی بدتر سمجھتا ہے ...... سوچئے ..... 


31:20
(لوگو!) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے تمہارے لئے ان تمام چیزوں کو مسخّر فرما دیا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں۔ اور لوگوں میں کچھ ایسے (بھی) ہیں جو اﷲ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب (کی دلیل) کے

31:21
 اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو

31:22
جو شخص اپنا رخِ اطاعت اﷲ کی طرف جھکا دے اور وہ (اپنے عَمل اور حال میں) صاحبِ احسان بھی ہو تو اس نے مضبوط حلقہ کو پختگی سے تھام لیا، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کی طرف ہے

Wednesday, September 7, 2011

Taqdeer / Kismat / Muqadar in Quran Urdu تقدیر اور قرآن پاک

باوجود ایک کلمہ گو مسلمان اور قرآن پاک کی موجودگی کے، تقدیر کے مسلے کو ایک "الجھی ہوئی گتھی" بنا کر رکھ دیا گیا ہے جو نہایت افسوسناک بات ہے. تقدیر کے متعلق اکثر احباب نے کچھ عجیب و غریب سوالات کئے ہیں، جیسے کے
  • جب ہمارے لئے ایک کام کرنا پہلے ہی سے لکھ لیا گیا ہے تو پھر وہ کام کرنے پر ہمیں سزا کیوں دی جاتی ہے؟
  • ہر کام الله کی مرضی سے ہوتا ہے، اگر میں قتل کروں، اس میں مرضی تو الله کی شامل ہوتی ہے، سزا مجھے کیوں دی جاتی ہے؟
  اصل میں ہمارے ذھن میں ایسے سوال اس لئے پیدا ہوتے ہیں کیوں کے ہم نے قرآن پاک کو سو غلافوں میں چھپا کرسب سے اونچی الماری میں رکھا ہوتا ہے، اگر سالوں میں کبھی کھولنا ہوتا بھی ہے تو کچھ سطریں پڑھ کر ثواب حاصل کرنے کی نیت سے.  اگر ہم واقعی اسکو سمجھنے کی نیت سے کھول کر پڑھتے تو معلوم ہوتا کے جو سوالات ہم زبان پر لا رہے ہیں قرآن نے انہیں کافروں کا عقیدہ کہا ہے. 
٦-١٤٨ میں الله کہتے ہیں. اب مشرک کہیں گے اگر الله چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرتے اسی طرح ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ انہو ں نے ہمارا عذاب چکھا کہہ دو تمہارے ہاں کوئی ثبوت ہے تو اسے ہمارے سامنے لاؤ تم فقط خیالی باتوں پر چلتے ہو اور صرف تخمینہ ہی کرتے ہو
اگر ایک بدمعاش انسان گالی گلوچ کرتا ہے، لوگوں پر ظلم کرتا ہے، حرام مال کماتا ہے، تو کیا حکم اسے الله دے رہا ہے؟ کیا وہ یہ سب خرافات رحیم و کریم کی مرضی سے کر رہا ہے؟ الله تو سوره الاعراف آیات ٢٨ میں ارشاد فرماتے ہیں کے، اور جب کوئی برا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اسی طرح اپنے باپ دادا کو کرتے دیکھا ہے اور الله نے بھی ہمیں یہ حکم دیا ہے کہہ دو بے شک الله بے حیائی کا حکم نہیں کرتا الله کے ذمہ وہ باتیں کیوں لگاتے ہو جو تمہیں معلوم نہیں

جاہل انسان کے اس بھونڈے عقیدے کے خلاف الله کھلم کھلا سوره الاعراف آیات ٣٣ میں یہ اعلان فرماتے ہیں کے،  کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں


یہ تو رہا اس بہتان کا جواب جو ہم اپنی لا علمی کی وجہ سے الله پاک کی ذات پر لگاتے ہیں، اب ذرا ان آیات پر ایک نظر ڈالیں جو صحیح طور پر ہمارے اس نام نہاد اور بے بنیاد عقیدے کو رد کرتی ہیں.


سوره الجاثیہ کی آیات نمبر ٢٩ میں الله فرماتے ہیں کے "یہ ہمارا دفتر تم پر سچ سچ بول رہا ہے کیونکہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اسے ہم لکھ لیا کرتے تھے" اور سوره یونس کی آیات نمبر ٤٤ میں فرماتے ہیں کے " بیشک اللہ لوگوں پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ (خود ہی) اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں.


اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کے جس بات کا میں خود حکم کروں اور پھر اسی پر سزا بھی دوں! یہ ایک انسان بھی نہیں کر سکتااور نہ کرے گا.

  • جو کوئی برا عمل کرے گا اسے  اس کے مطابق اس کی سزا دی جائے گی، سوره نسا آیت ١٢٣
  • بےشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) ان کے نشان پیچھے رہ گئے ہم ان کو قلمبند کرلیتے ہیں۔ اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے سوره یاسین آیت ١٢
  • اور تم پر جو مصیبت آتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں سے آتی ہے اور وہ بہت سے گناہ معاف کر دیتا ہے سوره اش-شورہ آیت ٣٠
  •   جب (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے، اور جب سیارے گر کر بکھر جائیں گے، اور جب سیارے گر کر بکھر جائیں گے، اور جب سیارے گر کر بکھر جائیں گے، تو ہر شخص جان لے گا کہ کیا عمل اس نے آگے بھیجا اور (کیا) پیچھے چھوڑ آیا تھا، سوره انفطار آیت ١-٥.
اگر ہمارا قرآن پاک کی صداقت پر کامل ایمان ہے تو ہمیں تقدیر کے بارے میں کسی الجھن کا شکار نہیں ہونا چاہے. ہمیں قرآن کی اس وضاحت پر مطمئن ہو جانا چاہے کے تقدیر فقط ہمارے ہی کیے ھوے اعمال کی پیشگی اندراج ہے. پیشگی اندراج کے متعلق رب العزت سوره الحدید آیت نمبر ٢٢ میں ارشاد فرماتے ہیں کے، جو کوئی مصیبت زمین پر یاخودتم پر پڑتی ہے وہ اس سے پیشتر کہ ہم اسے پیدا کریں کتاب میں لکھی ہوتی ہے بے شک یہ الله کے نزدیک آسان بات ہے

اس آیت سے ہمیں یہ حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کے، تا قیامت یہ سرزمین اور اس پر بسنے والے سبھی انسان اور دیگر مخلوقات جن جن آفات، حادثات اور واقعات سے دوچار ہوں گے وہ سب کچھ بغیر کسی مشکل کے الله پاک نے لوح محفوظ میں لکھ لئے ہیں. اپنے رب کی المیت کی شان دیکھے کے اسکا علم ان واقعات پر محیط ہے جو اسکے بندوں پر روز محشر، جنت اور دوزخ میں پیش آنے والے ہیں. وہ گفتگو بھی اسکے علم میں ہے جو جنتی بندے دوزخی بندوں سے کریں گے. دوزخی دوزخ میں اور جنّتی جنّت میں ایک دوسرے سے کریں گے.

مذکورہ بلا حقائق کی روشنی میں تقدیر بلاشبہ ہمارے ہی اعمال کی پیشگی اندراج کا مکمل ریکارڈ ہے. الله رحیم و کریم اپنے بندوں سے کوئی کام نہیں کرواتے. ہم اپنے اعمال کی  بجا آوری میں قطعی خود مختار ہیں. اسی لئے اپنے کے ہوے ہر اچھے اور برے عمل کے لئے اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہیں

Thursday, September 1, 2011

Gold and Silk being Haram for men in the light of Quran

According to Quran, we cannot declare anything Haram if it is not mentioned in Quran. Quran provided complete list of Haram (Prohibited Things) and besides that everything which we like we can do or consume. It is true for everything being Halal or Haram.

Quran/Allah does not ordinate Silk and Gold as Haram for men so we cannot teach it preach it as part of our Deen. If some people think it is truly what Prophet Muhammad (pbuh) said then go ahead, no harm in doing so however saying that its prohibited in Deen or Islam is wrong. You will not be judged whether you wore gold or silk because its not forbidden in Quran. Allah has made this Deen very easy to follow, don't make it hard.


ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ, بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لئے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے

We have not sent down the Qur'an to thee to be (an occasion) for thy distress, But only as an admonition to those who fear (Allah),20:2-3


Some Ayah's to make it clear how sinful it is to declare anything as Haram, even prophet Muhammad (pbuh) was not allowed to do so. 

ے نبی آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو الله نے آپ کے لیے حلال کیا ہے آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہیں اور الله بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
O Prophet! Why holdest thou to be forbidden that which Allah has made lawful to thee? Thou seekest to please thy consorts. But Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful. 66:01

It is not allowed to make anything unlawful without Allah's order.
اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں (اپنے اوپر) حرام مت ٹھہراؤ اور نہ (ہی) حد سے بڑھو، بیشک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا
O ye who believe! make not unlawful the good things which Allah hath made lawful for you, but commit no excess: for Allah loveth not those given to excess. 5:87

فرما دیجئے: اﷲ کی اس زینت (و آرائش) کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے اور کھانے کی پاک ستھری چیزوں کو (بھی کس نے حرام کیا ہے)؟ فرما دیجئے: یہ (سب نعمتیں جو) اہلِ ایمان کی دنیا کی زندگی میں (بالعموم روا) ہیں قیامت کے دن بالخصوص (انہی کے لئے) ہوں گی۔ اس طرح ہم جاننے والوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کرتے ہیں
Who hath forbidden the beautiful (gifts) of Allah, which He hath produced for His servants, and the things, clean and pure, (which He hath provided) for sustenance? Say: They are, in the life of this world, for those who believe, (and) purely for them on the Day of Judgment. Thus do We explain the signs in detail for those who understand. 7:32

فرما دیجئے: ذرا بتاؤ تو سہی اللہ نے جو (پاکیزہ) رزق تمہارے لئے اتارا سو تم نے اس میں سے بعض (چیزوں) کو حرام اور (بعض کو) حلال قرار دے دیا۔ فرما دیں: کیا اللہ نے تمہیں (اس کی) اجازت دی تھی یا تم اللہ پر بہتان باندھ رہے ہو
"See ye what things Allah hath sent down to you for sustenance? Yet ye hold forbidden some things thereof and (some things) lawful." Say: "Hath Allah indeed permitted you, or do ye invent (things) to attribute to Allah?" 10:59

اور وہ جھوٹ مت کہا کرو جو تمہاری زبانیں بیان کرتی رہتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اس طرح کہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو، بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ (کبھی) فلاح نہیں پائیں گے
But say not - for any false thing that your tongues may put forth,- "This is lawful, and this is forbidden," so as to ascribe false things to Allah. For those who ascribe false things to Allah, will never prosper.16:116

ان سے کہہ دو اپنے گواہ لاؤ جو اس بات کی گواہی دیں کہ الله نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے پھر اگر وہ ایسی گواہی دیں توتو ان کا اعتبار نہ کر اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت پریقین نہیں رکھتے اور وہ اوروں کو اپنے رب کے برابر کرتے ہیں
Say: "Bring forward your witnesses to prove that Allah did forbid so and so." If they bring such witnesses, be not thou amongst them: Nor follow thou the vain desires of such as treat our signs as falsehoods, and such as believe not in the Hereafter: for they hold others as equal with their Guardian-Lord.6:150


Thursday, April 28, 2011

Last Khutba of Prophet Muhammad (PBUH)

حضور صل اللہ علیہ و سلم ناقہ پر سوار ہوے ۔توتکبیرکے غلغلہ انگیز نعروں سے فضا مرتعش ہو گئ ۔ آپ صل اللہ علیہ و سلم نے ناقہ کے اوپر ہی سے وہ خطبہ ارشاد فرمایا۔جو قیام نوع انسانی کے لے منشور بالغہ ہے ۔ آپ صل اللہ علہ و سلم نے فرمایا ۔ ہاں ! جاہلیت کے زمانے کے تمام آئین و دستور میرے پاؤں کے نیچے ہیں ۔ اسکے بعد فرمایا۔ اے نوع نسانی سن رکھو کہ تمہارا سب کا رب ایک ہے ۔اور تم سب ایک ہی اصل کی شاخیں ہو۔ اسلے عربی کو عجی پر اور عجی کو عربی پر سرخ کو سیاہ پر او سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں ۔ مگر تقوی کے سبب۔ یاد رکھو ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔

اوراس طرح تمام روۓ زمیں کے مسلمان رشتہ اخوت میں منسلک اور سلک مودت سے منوط ہیں ۔تہارا خون اورتمہارا مال اور تمہاری آبرو قیامت تک کے لے ایک دوسرے کے لے اس طرح قابل احترام ہونی چاہیۓ جس طرح یہ دن اس مہینے میں اوراس شہر میں وجہ احترام ہیں ۔ کہین میرے بعد( ائتلاف اور مرکزیت) کی صراط مسقیم چھوڑ کر تشت و افتراق کی گمراہی نہ اختیار کر لینا۔ کہ خودایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگ جاؤ یاد رکھو تمہیں خداکے سامنے حاضرہونا پڑیگا ۔اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس کرے گا ۔ میں تم میں ایک چیز چھوڑے جاتا ہوں ۔اگر تم نے اسے مظبوطی سے تھامے رکھا تو کبھی گمراہ نہں ہوگے ۔وہ چیز کیاہے ۔وہ اللہ کی کتاب قرآن ہے۔اگر کوي حبشی غلام بھی تمہاراامیر ہو ۔ اور ہ تہیں قرآن کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمان برداری کرو ۔دین یں غلو مت کروتم سے پہلی قومیں اسی لے برباد ہوئيں۔ عورتوں کے معاملے میں بھی قانون خداوندی کی نگہداشت کرو یاد رکھو تہاری عورتوںپر اور عورتوںکے تم پر حقوق ہیں ۔( ان حقو ق کو نظر انداز نہ کرنا )
 

تم سے خداکے ہاں میری بابت پوچھا جاۓ گا کہو تم کیا جواب دوگے ۔لاکھوں زبانیں ایک ہی وقت پکار اٹھیں کہ ہم کہں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا ۔اور اپنا فرض ادا کر دیا۔ آپ صل اللہ و سلم نے تین بار آسمان کے طرف انگلی اٹھائی اور کہا اے خدا تو گوا رہنا۔

In the10thyear of hijra,the prophet Hazrat Muhammad(peace be upon him) together with his followers went to perform Hajj at Makkah.
On this historic occasion ,he addressed a very larg gathering of Muslim on mount Arafat.this address proved to be his lost Hajj sermon.In this sermon, he once again repeated the message of Islam.he said;
There is no god except ALLAH.He is the only God .None shares His authority and power.HE fulfilled His promise and helped HIs prophet against the forces of evil.
O people listen to me carefully. we may not the oppportunity to meet again in such an assembly after today, He quoted a verse from the Holy Quran and said,Allah says , o mankind ;we created u from a male and female and made u in to tribes and nations so as to be known one from the other.And in eye of Allah, the most rghteous is the most honouable among you.In the light of this verse, no Arab is superior to a non- Arab. Nor is a white man in any way better than a black man. Only the goodness of a person makes him superior to others.the whole of huminity is the offspring of Adam ,and Adam was created from dust.I therfore,crush under my feet all the false claims to greatness and superiority founded on blood or wealth.
He further said , O people A Muslim is another Muslim‍‍"s brother and all the Muslim s are brothers among themselves.
Finly he said, I have given you the message of Allah. I am leaving among you a thing, which will guid you.I f you act according to it,you will never go wrong. This is the Holy book of Allah.
Although the prophet( peace be upon him)is no more with us ,we have the Holy Quran to give us the guidance.we should read it daily and try best to understand what it teaches.If,we make a habit of acting according to its teaching,we will very soon achieve our former greatness in the world.