Thursday, July 19, 2012

ISRA & MIRAJ fact in light of Quran

While the Isra did happen (17:1, 53:1-18), fairytales associated with it do not make any sense when scrutinized under Quran's light. First I will sum up this story, and then I will take a look at it Quranicly.
This story is usually called in Muslim literature the story of al-isra'a and al-mi'raj or the prophet Muhammad quit night journey (al-isra'a) from Mecca to al-masjid al-aqsa (the farthest mosque) in Jerusalem, then his ascension to heaven (al-mi'raj) and his return in few minutes back to Mecca. They said it happened on 27th night of Rajab (the 7th lunar month) in 621 AD (Muhammad was then 50-year old).

دین اسلام میں فرقہ بندی مشرکوں کا کام ہے - Sects in Quran in Urdu



مشرک لفظ کا مادہ   ش ر ک   ہے ۔جس کے معنی و مفہوم میں اصل چیز کے ساتھ کسی دوسری چیز کا شامل ہونا پایا جاتا ہے ۔ دین اسلام میں فرقہ بندی مشرکوں کا کام ہے اور الله تعالیٰ نے فرقہ بندی کرنے والے لوگوں کو قرآن کریم میں مشرک کہا ہے  بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ سورة آل عمران وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّ‌قُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿١٠٥﴾يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْ‌تُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُ‌ونَ ﴿١٠٦﴾خبردار ان لوگو ں کی طرح مت ہو جاؤ جنھوں نے تفرقہ کیا اور باہم اختلاف کیا اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح احکام آئے اور انہی کیلئے عذاب عظیم ہے (105) جس دن کچھ چہرے سفید اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے پس جن لوگوں کے چہرے 

Wednesday, November 2, 2011

Real Essence of Zakat in light of QURAN

Like many other concepts of faith and acts of worship in Islam, Zakat too has been severely distorted and misjudged by our "scholars" throughout the history. 

Zakat along with Contact Prayer (Salat) is one of THE most important acts of worship for a believer. GOD tells:

"My mercy encompasses all things, but I will specify it for the righteous who give Zakat" (7:156).

Understanding the Arabic Language does not Mean One Understands the Qur'an


The majority of the people assume that if one understands the Arabic language, it means he is capable of understanding the Qur'an. They are also quick to dismiss anyone who has a point to make about the Quran's Verses, if they are not an Arab or do not speak Arabic. A consistent feature of these sorts of people is that they themselves know little about the Qur'an because they never attempt to research the Qur'an directly. This is because of an intentionally induced inferiority complex of not knowing Arabic which gives them the excuses they need to stay distant from the Qur'an, as well as due to some other vain excuses. They never attempt to understand the Verses of the Qur'an themselves. All of their views on the Qur'an are formed entirely by following other people and texts written by those whose trust they assume. They have only read the Qur'an's Verses in text books in the context created by their trusted writers, or otherwise read the Arabic Verses in ritualistic recitation, or in prayer without understanding them. Sometimes, he feels he has done enough by reading the translation of the few Verses he recites frequently in prayer.

Reading the Qur'an but Practising Something Else


There is a prevalent culture among Muslims where they only view the Qur'an as a way of gaining reward for reciting out loud the Arabic words correctly. Such people think that they hold the Qur'an in high esteem, but this only keeps them away from studying the Qur'an as they should. Parents teach their children how to pronounce the Arabic words and send their children to evening schools to learn to recite the Qur'an correctly. Such people do not deny the importance of the Qur'an, but their idea of the role of the Qur'an is extremely mistaken and shallow.

لمحہ فکر - Ajwa Khajoor and Poison


سچ ثابت کرنے کے لۓ سب سے بہتر طریقہ یہ ہےکہ ذاتی عمل سے گزرا جاۓ ۔ پچھلے د نوں فیس بک پر ایک ویڈیو پوسٹ ہوئی تھی جسمیں ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہےکہ اجوا کجھور کھانے کے بعد زہر یاکوئی جادو وغیرہ اثر ہیں کرتا۔ جادو کا توبیکارنام بدنام ہے البتہ زہر کھانے سےنقصان کا ہونا حقیقت ہے سو یہ زہر کے کھانے والی بات قابل غور ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم کب تک اس طرح کی غیر سائینسی اور غیر مصدقہ باتیں اس عظیم ہستی حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرکے اسلام جیسے حق پر مبنی دین کو بدنام کرتے رہیں گے اوراپنی لاعلمی پر دنیا کو ہنس نے کا موقع فراہم کرتے رہیں گے ۔اسطرح کی بے تکی باتوں سے ہم کیا ثابت کرنا چاہتےہیں ۔اگر کسی نان مسلم نے کہا کہ اپنے نبی کی اس روایت پر عمل کرکے دکھائیے۔ تو کیا امت کا کوئی فرد یا خاص کر وہ مولوی صاحب جو روایت بیان کر رہے تھے، ذرہ جرآت کا مظاہرہ کرکے اجوا کجھور کھا کر بلاخوف زہر کھا لیں گے یا وہ عربی لوگ جو عام طور پر اجوا کجھور کھاتے رہتےہیں وہ خود کو ہر قسم کی زہر سے محفوظ سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کیا اس روایت پر عمل کرنا ممکن ہے ؟

الله کو کیا ناپسند ہے؟

الله کو شراب ناپسند ہے یہ تو سب جانتے ہیں اور جو شراب پیتا ہے اسکو ہم بہت برا جانتے ہیں. مگر شراب کے علاوہ اور بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو الله کو سخت ناپسند ہیں لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کے کوئی ہمیں ان باتوں کے بارے میں بتاتا بھی نہیں. خود تو ہم ویسے ہی قرآن نہیں پڑھتے تو ہمیں پتا کیسے چلے بھلا؟ سورۂ اسرا (١٧) میں کچھ ایسی باتیں الله نے بتائی ہیں. کے  تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بیشک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے. اور جس جان کو قتل کرنا الله نے حرام کر دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرنا. تم یتیم کے مال کے (بھی) قریب تک نہ جانا. وعدہ پورا کیا کرو، بیشک وعدہ کی ضرور پوچھ گچھ ہوگی. ناپ پورا رکھا کرو جب (بھی) تم (کوئی چیز) ناپو اور (جب تولنے لگو تو) سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ (دیانت داری) بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے (بھی) خوب تر ہے. اور کسی بھی چیز پر اندھا دھند یقین نہ کرو. اور زمین میں اکڑ کر مت چلو. ایسی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو الله کو ناپسند ہیں اور ہمیں نہیں کرنی چاہییں  

کچھ سوال کچھ جواب


الله کن لوگوں کو ہدایت دیتا ہے؟
١٦:١٠٤ - جو لوگ الله کی آیتوں پر یقین کرتے ہیں

کیا ہماری نیکیاں ضایع ہوتی ہیں ؟
١٨:٣٠ - ہم اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جو نیک عمل کرتا ہے

مسلمانوں کے بہت سے اختلافات کا کیا حل ہے؟
١٦:٦٤ - جس چیز میں دو لوگ اختلاف کرتے ہیں اسکا فیصلہ قرآن سے کروا لیں. قرآن کی کسوٹی پر پرکھیں. کسی قسم کا کوئی بھی اختلاف یا شک باقی نہیں رہے گا.

ہم قرآن کا بہت سا حصہ یہ سوچ کر توجہ نہیں دیتے کے یہ تو صرف قصے کہانیاں ہیں، اس میں ہمارے لئے کچھ نہیں. لیکن الله کیا کہتے ہیں؟
١٦:٢٤ - اور جب پُوچھا جاتا ہے اُن سے کہ کیا ہے یہ جو نازل کیا ہے تمہارے رب نے تو کہتے ہیں کہ قصّے کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی۔ یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں

کیا بری نظر لگتی ہے؟


جو لوگ بری نظر لگنے پر دل سے یقین کرتے ہیں انھیں یہ جان کر بلکل اچھا نہیں لگے گا کے نظر لگنے کی کوئی حقیقت نہیں. خاص طور پر اسکو مذہب کے ساتھ مسوب کرنا تو کسی لحاظ سے بھی درست نہیں. ہمیں یہ خیال اتنا پسند ہے کے اپنی کسی بھی بیماری یا نقصان کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرا کر اس کی اصل وجہ پتا لگانے کی کوشش تک نہ کرنا. قصوروار بیچارے کو پتا بھی نہیں ہوتا کے اسکا قصور کیا ہے. میں نے تو لوگوں کے الزامات سے اتنا ڈر گی  ہوں کے کسی کی تعریف کرتے ہوے بھی سو بار سوچنا پڑتا ہے. 

کیا واقعی آپکو یقین ہے کے کوئی اپنی نظر سے آپکو نقصان پہنچا سکتا ہے؟ غور کریں اس بات پر؟ اور اگر آپ نظر لگنے کی حقیقت قرآن کے حوالے سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اس LINK کو FOLLOW کریں.

http://submission.org/Evil_eye_Magic_Spells.html

غیرت و حمیت

تاریخ کے اوراق پلٹیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسپین کی صدیوں پر محیط اسلامی ریاست کے خاتمے کی آخری گھڑی کے موقع پر، آخری بادشاہ اپنے محل سے باھر نکالا جا رھا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ میں اس کی ماں ملکہ معظمہ ۔۔۔ اور پھر بادشاہ پلٹ کر اپنے محل کو دیکھتا ھے۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ھو جاتے ھیں۔۔ اور درد اور الم کے ان کربناک لمحوں میں ملکہ کی زبان سے یہ تاریخ ساز الفاظ ادا ھوتے ھیں کہ۔۔

" جس سلطنت کی حفاظت مردوں کی طرح نہ کر سکے اس کے چھننے پر عورتوں کی طرح آنسو بھی نہ بہاؤ"۔۔۔۔۔۔۔۔

عزت، غیرت ، حمیت اور خود داری وہ جنس نایاب ھیں کہ جن کی آبیاری اپنے خون سے کرنی پڑتی ھے۔۔۔۔۔ نہ تو یہ بھیک میں ملتی ھے اور نہ ھی آسمانوں سے نازل ھوتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کی تاریخ گواہ ھے کہ جب بھی کسی قوم کا زوال ھوا۔۔۔ اس کی ابتداء میں یہ گوھر نایاب اس قوم سے روٹھ گیے۔۔۔ اور پھر رفتہ رفتہ وہ قوم ایک قصہ بن کے رہ جاتی ھے۔۔۔


وقت کرتا ھے پرورش برسوں
حادثے نا گہاں نہیں ھوتے۔۔۔

وطن عزیز کی ناموس جس طرح آج ساری دنیا کے سامنے ایک تماشا بنی ھوئی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ھمارا مقدر ھے۔۔۔ کہ جس پر صبر اور شکر ادا کر کے اور آنسو بہا کے بیٹھ جائیں۔۔۔۔۔۔۔ کیا دنیا کی یہ عظیم قوم کہ جس میں وہ صلاحیتیں موجود ھیں کہ وہ ساری دنیا کی راہنمائی کر سکتی ھے۔۔۔ چند بے غیرت، ضمیر فروش، بے شرم اور دولت کے پجاریوں کے ھاتھوں یرغمال بنی رھے گی۔۔۔ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ھم رُک کر ان اسباب کا جائزہ لیں۔۔۔ کہ جس نے ھماری عزت اور غیرت کو دوسروں کے ھاتھوں چند سکوں کے عوض گروی رکھ دیا ھے۔۔۔ کیا ھمیں اپنا احتساب نہیں کرنا چاھیے۔۔۔۔۔ آئیے اللہ کی کتاب سے یہ سوال کریں کہ آخر یہ قوم کہ جس نے ایک خطہ زمین اللہ کے نام پر حاصل کیا تھا۔۔۔ کہ جس ملک کو اس کریم اور رحیم نے دنیا کی ھر نعمت اور دولت سے مالا مال کیا ھوا ھے۔۔ کیوں اس طرح بے توقیری کا شکار ھے؟؟؟؟

قرآن کریم نے قوموں کے عروج و زوال کی کئی داستانیں بیان کی ھیں ۔۔۔ جو ھمارے لیے عبرت کا سامان مہیا کرتی ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرمایا۔۔۔۔۔ 


وَكُلَّ إِنسَـٰنٍ أَلۡزَمۡنَـٰهُ طَـٰٓٮِٕرَهُ ۥ فِى عُنُقِهِۦ‌ۖ وَنُخۡرِجُ لَهُ ۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَـٰمَةِ ڪِتَـٰبً۬ا يَلۡقَٮٰهُ مَنشُورًا ( ١٣ ) ٱقۡرَأۡ كِتَـٰبَكَ كَفَىٰ بِنَفۡسِكَ ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيبً۬ا ( ١٤ ) مَّنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَہۡتَدِى لِنَفۡسِهِۦ‌ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡہَا‌ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ۬ وِزۡرَ أُخۡرَىٰ‌ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبۡعَثَ رَسُولاً۬ ( ١٥ ) ۔۔۔17/15 

اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کا نوشتہ اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے، اور ہم اس کے لئے قیامت کے دن (یہ) نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ (اپنے سامنے) کھلا ہوا پائے گا، (١٣) (اس سے کہا جائے گا:) اپنی کتابِ (اَعمال) پڑھ لے، آج تو اپنا حساب جانچنے کے لئے خود ہی کافی ہے، (١٤)جو کوئی راہِ ہدایت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے فائدہ کے لئے ہدایت پر چلتا ہے اور جو شخص گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبال (بھی) اسی پر ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہوں) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور ہم ہرگز عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم (اس قوم میں) کسی رسول کو بھیج لیں،


آیت مذکورہ سے واضح ھوتا ھے کہ یہ اللہ کریم کی سنت ھے کہ جب تک کسی قوم میں کوئی آگاہ کرنے والا نہ بھیج دیا جائے۔۔ اور اس قوم کی صحیح اور غلط راھوں کی راہنمائی نہ کر دی جائے۔۔ اس قوم پر عذاب نازل نہیں کیا جاتا۔۔۔۔ مزید ، یہ بھی اللہ کا قانون ھے کہ ھدایت اور گمراھی انسان کے اپنے اختیار اور ارادے کی بات ھے۔۔۔ نہ خدا کسی کو گمراہ کرتا ھے اور نہ ھی زبردستی ھدایت دیتا ھے۔۔۔چنانچہ جو ھدایت حاصل کرنا چاھتا ھے تو اسے ھدایت مل جاتی ھے۔۔ اور جو گمراھی کا راستہ اختیار کرتا ھے تو اس کا نقصان اس کی اپنی ذات کو پہنچتا ھے۔۔۔ اور یہ بھی اللہ کا اٹل قانون ھے کہ کہ کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔۔ خدا کا یہ قانون کتنا محکم ھے کہ کوی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔۔ اس کا اندازہ اس اگلی آیت مبارکہ سے ھوتا ھے ۔۔ فرمایا۔۔۔

وَإِذَآ أَرَدۡنَآ أَن نُّہۡلِكَ قَرۡيَةً أَمَرۡنَا مُتۡرَفِيہَا فَفَسَقُواْ فِيہَا فَحَقَّ عَلَيۡہَا ٱلۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنَـٰهَا تَدۡمِيرً۬ا۔۔۔17/16

قوموں کی تباھی کے لیے خدا کا قانون یہ ھے۔۔کہ جب وہ آرام پسند، محنت کئے بغیر زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل کرنے کی خواھش مند، عیش پرست اور سرمایہ دارانہ ذھنیت کی حامل ھو جاتی ھے، اور اس طرح اُس صحیح راستے کو چھوڑ کر، جو ان کے سامنے واضح طور پر آ چکا ھوتا ھے، غلط راستوں کو اختیار کر لیتی ھے، تو وہ تباھی کی مستوجب ھو جاتی ھے، اور پھر اس طرح ھلاک کر دی جاتی ھے کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہیں رھتا۔۔ [مفہوم

اب ھوتا کیا ھے۔۔۔ کہ اس قوم میں ایسے لوگ جنھیں قرآن اپنی مخصوص اصطلاح میں " مترفین " کہتا ھے۔۔ بڑی تعداد میں جمع ھو جاتے ھیں۔۔۔ یہ ایسے لوگوں کا گروہ ھوتا ھے کہ جو خود کچھ بھی نہیں کرتے مگر دوسروں کی محنت کی کمائی پر عیش کرتے ھیں۔۔ اور اس کے نتیجے میں اللہ کا وہ مستقل قانون ، "کہ کوئی بوجھ اُٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا" ۔۔ کی خلاف ورزی شروع ھو جاتی ھے۔۔۔ جس کا نتیجہ اس قوم کی بربادی اور تباھی ھے۔۔۔ اس ھی بات کو دوسرے مقام پر اس طرح سے بیان کیا گیا ھے۔۔۔
فرمایا۔۔۔


ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلاً۬ قَرۡيَةً۬ ڪَانَتۡ ءَامِنَةً۬ مُّطۡمَٮِٕنَّةً۬ يَأۡتِيهَا رِزۡقُهَا رَغَدً۬ا مِّن كُلِّ مَكَانٍ۬ فَڪَفَرَتۡ بِأَنۡعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٲقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلۡجُوعِ وَٱلۡخَوۡفِ بِمَا ڪَانُواْ يَصۡنَعُونَ ۔۔16/112

اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں۔۔

دوستو۔۔۔۔ بہت توجہ اور ایمانداری کے ساتھ اس بات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ھے کہ کیا آج یہ ساری قوم، ان دونوں جرائم ، کہ مترفین کو پالنا اور اللہ کی نعمت کا کفران کرنا۔۔۔ کی مرتکب نہیں؟؟


کیا آج ھم نے بھی ان ھزاروں کی تعداد میں حکمرانوں کی فوج ، بیوروکریسی ، ممبران اسمبلی، سینٹ ، اور جرنیل ، اور مذھبی پیشواؤں ۔۔۔۔ کا بوجھ اپنے کاندھوں پر نہیں اُٹھا رکھا ؟؟؟


کیا ھم نے اپنے رب کی عطا کی ھوئی اس نعمت عظیم یعنی مملکت پاکستان کے حصول پر شکر گزاری کی ؟؟؟ یا حسب توفیق اس کے جسم کا ریشہ ریشہ کر کے اپنا جہنم تیار کرتے رھے؟؟؟


دوستو۔۔۔۔ یہ وقت جاگنے کا ھے۔۔۔ ھم میں ھر کوئی اپنے اپنے دائرے میں ، دوسرے احباب کو حالات کی نزاکت کا احساس دلائے۔۔۔ اور انھیں یہ باور کروائے کہ اپنے معاملات و مسائل کا حل ھمیں خود ھی ڈھونڈنا ھوگا۔۔ کوئی اور
ھماری مدد کے لیے نہیں آئے گا۔۔



شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر ھے
اپنے حصے کی کوئی شمع جلائے رکھنا